دن یوں ہی نکلتے جائیں، راتیں یوں ہی ڈھلتی جائیں منظر یہ بدلتے جائیں، دل اپنے بہلتے جائیں گہرے ہیں غم کے سائے، ہے اور گہری تیری آنکھیں نہ اُبھرے تیری آنکھوں سے، خودی کو ڈبوتے جائیں راہوں سے پیار ہو جائے، بس یوں ہی کھوتے جائیں منزل کبھی نہ آئے، بس یوں ہی چلتے جائیں راہوں سے پیار ہو جائے وادیوں میں گھل جائیں، فضا میں خوشبو سے بکھر جائیں سائے میں چناروں کے سوئیں اس سیلاب میں بہ جائیں ہولے ہولے سے ایسی عادت سی تُو بنتی جائے پروانہ ہم بنتے جائیں، تیری لو میں جلتے جائیں راہوں سے پیار ہو جائے، بس یوں ہی کھوتے جائیں منزل کبھی نہ آئے، بس یوں ہی چلتے جائیں راہوں سے پیار ہو جائے
| शब्द | English Meaning | اُردو معنی |
|---|---|---|
| मंज़र | View / Scenery | منظر |
| परवाना | Moth / Symbol of lover | پروانہ |
| por el amor que compartimos | For the love we share | — (Spanish phrase) |
| el uno al otro nos preocupamos | We care for each other | — (Spanish phrase) |
© 2024 All Rights Reserved. Design by Sultanimator