Urdu script transliteration by Gurshabad یہ دل اب یوں ہی کھونے لگا ہے دل کی تو اب خیر نہیں لگتا ہے محبت کرنے لگا ہے شاید وہ اب غیر نہیں غیر نہیں غیر نہیں شاید وہ اب غیر نہیں غیر نہیں غیر نہیں تمہیں جب جب ملنے آتی ہوں آئینے کا خیال آ جاتا ہے من ہی من سوچنے لگتی ہوں کیوں گزارا تیرے بغیر نہیں چھوتا ہے تو جب میرے ہاتھوں کو برق سی رَگوں میں دوڑ جاتی ہے میں تو سہَم کے رہ جاتی ہوں تیرے چھونے سے ہاں کوئی بیر نہیں شاید وہ اب غیر نہیں غیر نہیں غیر نہیں شاید وہ اب غیر نہیں غیر نہیں غیر نہیں تیری بانہوں میں میں پگھل جاؤں سانسوں میں تیری یوں گھل جاؤں کھلی آنکھوں میں ہے خواب تیرے بن تیرے خوشی بھی بل-خیر نہیں چاہوں کہ یہ پل تھم جائے یہیں کاش میں نہ اقرار کروں چاہوں میں کہ وہ منائے مجھے مجھ میں ہے کیا، اُس میں وہ فرق نہیں شاید وہ اب غیر نہیں غیر نہیں غیر نہیں شاید وہ اب غیر نہیں غیر نہیں غیر نہیں شان پہ تیری میں جھکتی ہوں تیری ہی سانسیں میں بھرتی ہوں ہر محفل میں تجھے ڈھونڈتی ہوں لگتا ہے میری اب خیر نہیں
| शब्द | English Meaning | اُردو معنی |
|---|---|---|
| बर्क़ | Lightning / Electricity | برق |
| बिल-ख़ैर | Happy / Well-being | بالخیر |
| नई-सैर | A new amusement / pastime | نئی سیر |
| गिराँ-सैर | Hard time / Difficult journey | گراں سیر |
| फ़ैर | Fire | فَیْر |
© 2024 All Rights Reserved. Design by Sultanimator