آج سوچا، تو محبت کا صلہ یاد آیا بارہا مجھ سے تیرا، ہونا خفا یاد آیا آج تیرا یوں بچھڑنا، کیوں مجھے یاد آیا کیوں جو آنکھوں سے برستا، وہ سما یاد آیا آج سوچا، تو محبت کا صلہ یاد آیا رات بھر نیند نہ آئی، جو خیالوں میں تیرے صبح ہونے پہ، وہ راتوں کا خلا یاد آیا اشک بن کر ہی صحیح، آنکھوں میں آ جاؤ، بن کے کاجل جو سجا تھا، وہ ربا یاد آیا آج سوچا، تو محبت کا صلہ یاد آیا پاس رہتے تھے وہ کیا وقت، کیا وہ ہر پل تھا تب کبھی ہم کو کیوں، نہ کوئی خدا یاد آیا دور رہ کر میں نے چاہا تھا تجھے جو اتنا تجھ کو، کافر، کیا جب یاد، خدا یاد آیا آج سوچا، تو محبت کا صلہ یاد آیا ہو کے تجھ سے جدا، غم کے سوا کیا پایا تھا یاد آیا تو خوابوں کا کدہ یاد آیا چیز ہر ایک دلاتی ہے مجھے یاد تیری دیکھا آئینہ تو پھر چہرہ تیرا یاد آیا آج سوچا، تو محبت کا صلہ یاد آیا
सिला – reward, compensation
बारहा – again and again
होना ख़फ़ा – become displeased with someone or on something
समा - sky, time, heaven
ख़ला - emptiness
काजल - lamp soot appied to eyes for cosmetic purpose
रुबा - beloved and penname of the poet
काफ़िर - beloved
कदा - home, abode
© 2024 All Rights Reserved. Design by Sultanimator